26 مئی 2018 - 23:25
کس قسم کے طرززندگی نے حضرت خدیجہ (س) کو ام المومنین بنا دیا تھا؟

شوہرکےانتخاب کو حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کی کامیابی کا ایک سبب قراردیا جاسکتا ہےچونکہ اتنی زیادہ دولتمند ہونے کے باوجود شوہرکے انتخاب کےلیےکچھ خاص معیاراوراصول رکھتی تھیں،آپ ہرگز طاقت اورمال ودولت نہیں چاہتی تھیں اوروہ ایک اچھےاخلاق،ا مین اورصادق شوہرکےدرپے تھیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا: اسلامی کیلنڈرمیں دس ماہ مبارک رمضان پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا اوراسلام قبول کرنےوالی پہلی خاتوں کی وفات کا دن ہےکہ جنہوں نے اپنی پوری کائنات کو اسلام پرقربان کرتے ہوئے( السابقون السابقون) کا مصداق بن گئیں۔اسی مناسبت سےحوزہ علمیہ کےاستاد اورتاریخ کےمحقق حجۃ الاسلام سید یونس مرتضوی سے گفتگو کی گئی ہےکہ جس کا خلاصہ قارئین کے پیش خدمت ہے:

حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کی زندگی کےامتیازی فرق کے لیےبس اتنا ہی کافی ہےکہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےآپ کوعالمین کی بہترین عورتوں میں سےقراردیا ہے۔ حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا ایک کامیاب خاتون اورمکہ کی مشہورتاجراوردولتمند تھیں۔

شوہرکےانتخاب کو حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کی کامیابی کا ایک سبب قراردیا جاسکتا ہےچونکہ اتنی زیادہ دولتمند ہونے کےباوجود شوہرکےانتخاب کےلیےکچھ خاص معیاراوراصول رکھتی تھیں،آپ ہرگز طاقت اورمال ودولت نہیں چاہتی تھیں اوروہ ایک اچھےاخلاق، امین اورصادق شوہرکی تلاش میں تھیں۔

اگرچہ ہمارے رسم ورواج کےمطابق مرد، عورت سے رشتہ مانگنے جاتا ہے لیکن حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا خود اپنے شوہرکا انتخاب کرتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عرض کرتی ہیں: میں آپ سے محبت کرتی ہوں اورآپ سے میری محبت کی پہلی وجہ یہ ہےکہ میں آپ کی رشتہ دار ہوں اوردوسری یہ کہ آپ اپنی قوم میں شرافت، امانتداری، صداقت اوربہترین اخلاق کے مالک ہونے کی وجہ سے مشہورہیں۔ لہذا اگرآپ مجھ سے شادی کرنا چاہتے ہیں تو آپ بھی اپنا چچا سےکہیں اورمیں بھی اپنےچچا سےکہتی ہوں۔

یہ وہ پہلا معیارتھا کہ جسے حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا نے شوہرکےانتخاب میں مدنظرقراردیا تھا۔ اگریہ معیارہمارے معاشرے میں بھی قائم ہوجائے تو اس کی بہت زیادہ برکات ہوں گی۔

حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کی دوسری خصوصیت ان کی عفت اورپاکدامنی ہے وہ بھی اس معاشرے میں کہ جو جہالت اورجھوٹ بولنے،مال ودولت لوٹنے، مال ودولت جمع کرنے اوربیہودہ کاموں کو اقدار سمجھتا تھا یعنی جس معاشرے میں غیراخلاقی اقدار،اخلاقی قدروں میں تبدیل ہوچکی تھیں۔ ایسے معاشرے اورحالات میں حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا عفت اورپاکدامنی میں اتنی شہرت رکھتی تھیں کہ انہیں طاہرہ کہا جاتا تھا۔

حضرت خدیجہ اسلام اللہ علیہا کی شخصیت کا ایک اورنمایاں پہلو ایثاراورقربانی ہے۔ جنہوں نے اسلام اورپیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہدف کی راہ میں اپنا سب کچھ قربان کردیا تھا۔ جیسا کہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا: حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کے مال ودولت سے بڑھ کرمیرے لیے کوئی اورمال ودولت فائدہ مند نہیں تھا۔ اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےایک اورروایت میں فرمایا: اسلام، خدیجہ سلام اللہ علیہا کےمال اورعلی علیہ السلام کی تلوارسے پھیلا ہے۔ایک اورروایت میں ہےکہ اسلام تین چیزوں سے پھیلا ہے: پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلام کے اخلاق، خدیجہ سلام اللہ علیہا کےمال اورعلی علیہ السلام کی تلوار سے۔

حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کی شخصیت کا ایک اورنمایاں پہلو، آپ کی ولایت محوری ہے۔ حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا اپنے شوہرکی فرمانبردارتھیں اورانہیں اپنا ولی جانتی تھیں اورآپ نے ہرگزاپنے مال ودولت پرفخرنہیں کیا بلکہ بالعکس اپنے پورے مال کو پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اختیارمیں دے دیا اورخود آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خدیجہ اس وقت مجھ سے ملیں کہ جب تمام لوگ مجھ سے دوربھاگتے تھے، انہوں نے اسلام کی راہ میں مجھے تنہا نہیں چھوڑا ہے اورہمیشہ میری حمایت کی ، اللہ تعالیٰ اس پررحمت نازل کرے کہ وہ ایک بابرکت خاتون تھیں۔

افسوس سے کہنا پڑتا ہےکہ موجودہ معاشرے اورپوری تاریخ میں حضرت خدیجہ علیہا السلام پر جو سب سے بڑا ظلم ہوا ہے وہ یہ ہے کہ آپ کی شخصت کےمختلف پہلووں کو اجاگرنہیں کیا جاسکا ہے۔جب کہ مغرب میں چھوٹی سےخدمت انجام دینے والےکو نمونہ عمل بنادیا جاتا ہے۔ ہمارے پاس اتنے زیادہ نمونہ عمل اورآئیڈیلز موجود ہیں لیکن ہم ان کا تعارف نہیں کرواتے ہیں۔

.......

/169